نئی دہلی،2؍جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر ڈیرا جمائے کسانوں کی تحریک آج37ویں دن بھی جاری ہے- سخت سردی کے باوجود کسانوں کے حوصلے بلند نظر آ رہے ہیں - مودی حکومت کے ساتھ کئی میٹنگوں کے بعد بھی کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل پایا ہے- حکومت کے اس رویہ کو دیکھتے ہوئے اب کسان تنظیموں نے اپنا رخ مزید سخت کرنے کے فیصلہ کا اعلان کر دیا ہے-
کسان مزدور سنگھرش کمیٹی کے لیڈر سکھوندر سنگھ سبھرا نے مودی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ”تینوں زرعی قوانین رد ہونے چاہئیں - اگر4جنوری کو اس کا کوئی حل نہیں نکلتا تو آنے والے دنوں میں تحریک کو مزید تیزی دی جائے گی-“قابل ذکر ہے کہ دہلی میں اس وقت موسم بہت سرد ہے اور کسان کھلے آسمان کے نیچے زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں - یکم جنوری کو دہلی کا درجہ حرارت ایک ڈگری کے آس پاس ہے، لیکن کسان کسی بھی حال میں اپنے قدم پیچھے کھینچنے کے لیے تیار نہیں ہیں -
واضح رہے کہ کسانوں کے مظاہرہ کے سبب چیلا اور غازی پور بارڈر کو پہلے سے ہی بند کر دیا گیا ہے- دوسری طرف سنگھو بارڈر پر80کسان تنظیموں کی میٹنگ بھی ہو رہی ہے- اس سے قبل کسان اور حکومت کے درمیان ساتویں دور کی بات چیت میں دو ایشوز پر اتفاق قائم ہوا تھا-4جنوری کو آٹھویں دور کی میٹنگ ہونی ہے- اس میٹنگ سے قبل کسان تنظیمیں آگے کا منصوبہ تیار کرنے میں مصروف ہیں -اس درمیان مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ4جنوری کو کسانوں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کا بہتر نتیجہ برآمد ہوگا-